جمہوریت، مولانا عاصم عمر کی نظر میں

"ادیان کی جنگ ،دینِ اسلام یا دینِ جمہوریت” میں فرماتے ہیں فتنۂ جمہوریت۔ اللہ کے مقابلے میں اس نظام کو معبود بنانے کا فتنہ۔ قانون سازی کا حق اللہ سے لے کر اس نظام کو دے دینےکا فتنہ۔ اللہ کے قوانین کو منظور ہونے کیلئے غیر اللہ کا محتاج بنانا۔ مسلمان کو اللہ کی عبادت سے نکال کر غیراللہ کی عبادت میں اس طرح داخل کر دینا کہ پتہ بھی نہ چلے۔ موجیں مارتا فتنہ۔ تاریکی واندھیریوں کا فتنہ جہاں ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا، کوئی دلیل سمجھ میں نہیں آتی، جس کا کفر سے بھرا وجود سراپا بےضرر اوراسلام سےغیرمتصادم نظر آتا ہے۔ سو اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ جمہوریت صرف ایک فتنہ نہیں بلکہ فتنوں کوجنم دینے والی متعدّی بیماری ہے۔ جو امتِ مسلمہ کے وجود سے کچھ اس طرح چمٹی ہے جیسے جونک چمٹ جایا کرتی ہے۔ اس ابلیسی جمہوری نظام میں مسلمانوں کو پھنسانے والے کوئی عام ذہن نہیں تھے۔ بلکہ وہ ایسے مکار تھے، جن کےدماغ میں شیطانیت بجلی بن کر دوڑتی تھی، سوانھوں نے اسلام کی اصطلاحات، اسلامی عقائد اور مسلمانوں کےمزاج کا گہرائی سےمطالعہ کیا۔ اس کے بعد اس جمہوریت کے لیے ایسی اصطلاحات رائج کیں جو ظاہراً اسلام سے متصادم نظر نہیں آتی تھیں۔ چنانچہ انھوں نے بہت حد تک اس میں کامیابی حاصل کی اور عوام تو عوام بہت سے علماء تک کودھوکہ دینے میں کامیاب ہوگئے۔ جہاں جہاں اسلام اور جمہوریت میں لفظی یا ظاہری مماثلت (Similarity) موجود تھی وہاں اسلام کواپنا لیا گیا اور جہاں دونوں میں تضاد (Contradiction) تھا وہاں مکمل پینترا بدلا گیا اور ایسی اصطلاحات استعمال کی گئیں جن میں ظاہراً اسلامی اصولوں سے کوئی تضاد نظرنہ آتا ہو۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!