جمہوریت، مولانا حافظ محمد احمد کی نظر میں

سرمایہ داری، جمہوریت اور انسانی حقوق کا کفرِمطلق، شرک، ضلالت و گمراہی، بغاوت الہی اوربدترین ظلم و تعدی کا مجموعہ ہے۔ ہم نے اس نظام کو اسی طرح کفرِ مطلق کہا ہے جس طرح یہودیت، عیسائیت، ہندومت، بدھ مت اور سکھ مت کفرِمطلق ہیں۔

سوال کا جواب دیتے ہوئے کہ "کیا اسلامی جمہوریت بھی کوئی چیز ہے؟۔۔ "فرماتے ہیں۔ اس سوال کا سیدها سا جواب تو یہ ہےکہ کیا "اسلامی کفر”بھی کوئی چیز ہوسکتی ہے؟۔۔۔ ظاہر ہے کہ کوئی بھی ذی ہوش انسان اس کا قائل نہیں ہو گا۔ دراصل غور کرنے کی بات یہ ہے کہ ہمیں کسی اصطلاح کے ساتھ "اسلامی” لگانے کی ضرورت کیوں پڑتی ہے؟۔۔۔ اس لیے کہ وہ اپنی اصل میں اسلامی نہیں ہوتی۔ اکثروبیشتر اصطلاحات جن کے ساتھ اسلامی کا لفظ ھو، وہ مشتبہ ہوتی ہیں۔ جیسے”اسلامی بینکاری”،”اسلامی ٹی وی چینل، "اسلامی جمہوریت” وغیرہ۔ پھر آپ یہ بھی سوچیں کہ کیا کسی نے آپ سے یہ بھی کہا ہے کہ "اسلامی نماز”،”اسلامی حج” یا "اسلامی جہاد”؟۔۔۔ یہاں اسلامی کا لفظ لگانے کی ضرورت اس لیے نہیں کہ یہ تمام اصطلاحات اسلام کے اندرفطری طور پر موجود ہیں۔ کبھی کسی کو یہ اشتباہ نہیں ہوتا کہ "حج” بولاجائے اور اس سے کوئی شخص گنگا کا اشنان سمجھے یا بیساکھی کے میلے کی طرف ذہن جائے!۔یہی وجہ ہے کہ جہاں کہیں اس طرح کی اصطلاح نظر آئے، لازمی ہے کہ وہاں توقف کیا جائے اور خوب غوروفکر کے بعد اسکے اسلامی ہونے کا فیصلہ کیا جائے۔ اسلامی جمہوریت بھی ایسی ہی اصطلاح ہے جس کے بارے میں غوروفکرکی ضرورت ہے۔ بہت سے دانشوروں کا کہنا ہے کہ مغربی جمہوریت اور اسلامی جمہوریت دو مختلف چیزیں ہیں۔ بعض کا کہنا ہے اسلام اور جمہوریت ایک ہی سکے کے دورخ ہیں(نعوذبالله من ذلك)۔ یہ مغالطہ آمیز بات ہے۔ اسلام نے ہمیں خلافت کا عقیدہ دیا ہے۔ خلافت و جمہوریت کےاصول و فروع میں زمین آسمان کا فرق ہے، پهر کیا وجہ ہے کہ ہم خواہ مخواہ اسلام کے نظامِ خلافت کو جمہوریت ہی باور کروانے کی کوشش کریں یا جمہوریت کو عین اسلام قراردینے کا ناٹک رچائیں۔ جمہوریت کا مولدومنشا مغرب ہے۔  تاریخی طور پر ثابت ہے کہ یہ پانچ چھ سو سال قبل از مسیح بھی موجود تھی۔ یونان میں جمہوریت رائج ہوئی۔ پهر مغرب میں جمہوریت کا احیا ہوا۔ ایک بات تاریخی تناظر میں طے ہے کہ جمہوریت کبھی بھی کسی مذہبی معاشرے میں رائج نہیں رہی۔ بلکہ الله کے باغی معاشروں میں رائج رہی۔ اس نظام کو انہی معاشروں نے قبول کیا جو الله اور انبیاء علیہ السلام کے منکر معاشرے تھے۔  لہذا جب جمہوریت کے بارے میں معلوم ہوا کہ اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی یہ کوئی اسلامی اصطلاح ہے۔ بلکہ کافرانہ اصطلاح ہے تو اسکا استعمال کیونکر جائز ہوا؟۔۔ علما نے لکها ہے کہ وه لفظ جو اپنے اندر کسی پہلو سے کفر کا معنی رکهتا ہو اگرچہ فی الاصل مباح ہی ہو تب بھی اسکا استعمال کرنا ناجائز ہے۔ ( سرمایہ دارنہ جمہوری نظام کی شرعی حیثیت)

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!