جمہوریت، مفتی محمد احسن کی نظر میں

جمہوریت "کفر اور نفسانی خواہشات” پرمبنی نظام کا نام ہے جس میں قران کی واضح نصوص بھی اکثریت کی محتاج بنا دی جاتی ہیں۔ مثلا حرم الربوا والی آیت ۵۰ سال سے اسمبلی میں پیش کی جاتی ہے اور رد کردی جاتی ہے، اسلامی نقطہ نظر سے بھی جمہوریت "اسلامی” نہیں ہو سکتی ہے۔ کیونکہ اسلام میں مقنن اللہ اور رسولﷺ ہیں۔ جبکہ جمہوریت میں مقننہ سینٹ اور اسمبلیاں ہیں۔

اسلامی جمہوریت ؟۔۔۔ جمہوریت کے مؤجدین اور اُن کےافکار۔ جمہوریت کا مطلب ہے عوام کی حکومت : فرانس کے تین ملعونین نے اِسکی داغ بیل ڈالی، وولٹائر، مونٹیسکو، روسو۔۔۔ وولٹائر کی بکواس : ۱ : تمام انسانوں کا ایک مذہب ہے ”فطری مذہب” ۔۲: مذہب انسان کا ذاتی معاملہ ہے جو دل چاہےاختیارکرے اور اِسی نظریئے کی بنیاد پر یہ مفروضہ ایجاد ہوا جو جمہوریت کی ریڑھ کی ہڈی ہے کہ حکومت اور مذہب الگ الگ چیزیں ہیں یعنی حکومت کا کوئی مذہب نہیں ہوگا۔ مونٹیسکو کی بکواس: ریاست کےاختیارات ۳ ہیں، ۱:قانون سازی اور قانون سازپارلیمنٹ ہے، ۲: انتظامیہ یا ایگزیکٹو۔ جس کا سربراہ صدریا وزیرِاعظم ہوگا۔ ۳: عدلیہ اور اِن میں سے ہرادارہ خود مختار ہوگا (جیسے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہیں ) روسو کی بکواس :۱: فرد کے مفادات کا تحفظ ، ۲:افراد کی نمائندہ حکومت!۔۔۔ یہ ہے جمہوریت کی کہانی۔ جمہوری نظام کے تحت انتخابِ حکومت کے حامی حضرات کے یہاں ووٹنگ ہوگی۔ انتخاب کیلئے کمپئن چلے گی۔ ووٹ کا استحقاق ظاہر کیا جائے گا  اوروہاں خاتم المعصومینﷺ فرماتے ہیں۔ "لا تسال الامارۃ، فانک اِن اُوتیتہا عن مسئلۃ وُکلت الیہا: بخاری کتاب الایمان ۶۶۲۲۔۔۔ طلبِ امارت ناجائز ہے”۔

 جمہوری نظام میں تقسیمِ اختیارات اور قانون سازی کا ڈرامہ یہ کہتا ہے کہ افراد کی نمائندہ حکومت افراد کے مفادات کا تحفظ کرے گی اور یہاں کی سیکولر اور لبرل آبادی کو جب یہ اطلاع دی جائے گی کہ آپ کی منتخب حکومت نے شراب پر پابندی عائد کردی ہے اور پردے کے احکام نافذ کر دیئے ہیں تو جمہوری نظام کے تحت اِ ن عوام کوحق دیا جائے گا کہ وہ اِس حکومت کو بدل کر اپنی پسند کی حکومت لے آئیں۔ اگرایسا نہ کیا گیا یعنی حکومت کی تبدیلی کا حق چھین لیا گیا تو عالمی دنیا میں یہ جمہوریت نہیں کہلائے گی اوراِس کا محاسبہ انسانی حقوق کے ادارے اور اقوامِ متحدہ کے سپرد کیا جائے گا۔ جو چند گھنٹوں میں اِس جمہوریت کو زبردستی پہنایا گیا اسلامی لباس نوچ کر پھر سے وہی ہلاکت آفرین و مکروہ جمہوریت عریاں کرکے بطورِنظام پیش کردیں گے۔

جمہوریت کی بنیادی تعلیم یہ ہے کہ مذہب اسلام کا ذاتی معاملہ ہے اور حکومت کا کوئی مذہب نہیں ہوگا۔ لیکن جب اِس جمہوری نظام کواستعمال کر کے حکومت بنائی جائیگی، جس کو آپ رحمانی جمہوریت کانام دے رہے ہیں اور یہ جمہوریت والی زبردستی کی اسلامی حکومت اعلان کرے گی کہ ٹیکس ختم، عریانی و فحاشی ختم، کفر کا ساتھ دینا ختم، میڈیا با پردہ، خواتین کا بدونِ ضرورت گھروں سے نکلنا بند، نمازوں میں اور عیدین میں محلے کے بالغ مردوں کی بدونِ عذرعدم شرکت قابلِ مواخذہ، موسیقی کا خاتمہ، مخلوط مجالس کی چھٹی، تب یہ لبرل اورسیکولر جماعتی و غیرِہ جماعتی، آبادی بھڑکے گی اور فورا اقوامِ متحدہ کےحضور پہنچیں گے کہ یہ تھیو کریسی آ گئی ہے  اور تھیو کریسی کا قلع قمع کرنے کیلئے اقوامِ عالم کی افواج تشریف لے آئیں گی۔

آ جاؤ خلافت کے جھنڈے تلے اورچھوڑ دو جمہوریت کو مشرف باسلام کرنے کی گھناؤنی کوششیں۔ تا قیامت جمہوریت اسلامی نہیں ہو سکتی۔ اِن الحکم الا للہ، کی تقسیم اور چیز ہے اور انتظامی طور پر احکام کی تنفیذ اور چیزہے۔

جمہوریت کفر ہے اور اس جمہوریت کو عقیدہ سمجھ کر اپنانے والا کافر ہے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!