جمہوریت، مفتی رشید احمد لدہیانوی رحمۃ اللہ علیہ کی نظر میں

 "احسن الفتاویٰ”، جلد 6، صفحہ24 تا 26 میںلکھتے ہیں۔”اسلام میں مغربی جمہوریت کا کوئی تصّور نہیں، اس میں متعدد گروہوں کا وجود (حزبِ اقتدار و حزبِ اختلاف) ضروری ہے، جبکہ قرآن اس تصّور کی نفی کرتا ہے۔

وَٱعْتَصِمُوا۟ بِحَبْلِ ٱللَّہ جَمِيعًا وَ لَا تَفَرَّقُوا۟ ۚ(آل عمران : آیت 103)۔
"اللہ تعالیٰ کی رسی کو سب مل کر مضبوط تھام لو اور پھوٹ نہ ڈالو”۔

اس میں تمام فیصلے کثرتِ رائے سے ہوتے ہیں جبکہ قرآن اس اندازِ فکر کی بیخ کرتا ہے۔

وَ إِنتُطِعْ أَكْثَرَ مَن فِي الْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ(الانعام: آیت 116)

یہ غیر فطری نظام یورپ سے درآمد ہوا ہے۔ جس میں سروں کو گنا جاتا ہے تولا نہیں جاتا۔ اس میں مرد و عورت، پیر و جواں، عامی و عالم بلکہ دانا ونادان سب ایک ہی بھاؤ تلتے ہیں۔ جس اُمیدوار کے پلّے ووٹ زیادہ پڑ جائیں وہ کامیاب قرار پاتا ہے اوردوسرا سراسر ناکام۔ مثلاً کسی آبادی کے پچاس علماء، عقلاء اور دانشوروں نے بالاتفاق ایک شخص کو ووٹ دئیے، مگر ان کے بالمقابل علاقہ کے بھنگیوں، چرسیوں اوربے دین اوباش لوگوں نے اسکے مخالف اُمیدوار کو ووٹ دیدئیے جن کی تعداد اکّاون ہوگئی تو یہ اُمیدوار کامیاب اور پورے علاقہ کے سیاہ و سفید کا مالک بن گیا۔ یہ تمام برگ و بار مغربی جمہوریت کے شجرہ خبیثہ کی پیداوار ہے۔ اسلام میں اس کافرانہ نظام کی کوئی گنجائش نہیں۔ نہ ہی اس طریقے سے قیامت تک اسلامی نظام آسکتا ہے۔ بفحوائے ‘الجنسیمیل الی الجنس’ عوام (جن میں اکثریت بے دین لوگوں کی ہے) اپنی ہی جنس کے نمائندے منتخب کرکے اسمبلیوں میں بھیجتے ہیں۔ اسلام میں شورائی نظام ہے جس میں اہل الحل و العقد غور و فکر کرکےایک امیر کا انتخاب کرتے ہیں۔ چنانچہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے وفات کےوقت چھ اہل الحل و العقد کی شوریٰ بنائی جنہوں نے اتفاقِ رائے سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو خلیفہ نامزدکیا۔ اس پاکیزہ نظام میں انسانی سروں کو گننے کے بجائے انسانیت کا عنصر تولا جاتا ہے، اس میں ایک ذی صلاح مدبّر انسان کی رائے لاکھوں بلکہ کڑوروں انسانوں کی رائے پر بھاری ہوسکتی ہے۔

 "احسن الفتاویٰ”، جلد 6، صفحہ94میں لکھتےہیں:۔ "جمہوریت کو مشاورت کے ہم معنیٰ سمجھ کر لوگوں نے یہ کہنا شروع کردیا ہے کہ جمہوریت عین اسلام ہے۔ حالانکہ بات اتنی سادہ نہیں ہے۔ درحقیقت جمہوری نظام کے پیچھے ایک مستقل فلسفہ ہے۔ جو دین کے ساتھ ایک قدم بھی نہیں چل سکتا۔ اور جس کیلئے سیکولر ازم پرایمان لانا تقریباً لازمی شرط کی حیثیت رکھتاہے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!