جمہوریت، مفتی ابولبابہ شاہ منصور کی نظر میں

"عالمی یہودی تنظیمیں”، صفحہ 197 پر ‘جمہوریت یہودی ایجاد’ کی سرخی دے کر لکھتے ہیں۔

"درحقیقت یہ نظام حکومت نہ کسی عقلی کسوٹی پر پورا اترتا ہے نہ عملاً مفید ثابت ہوا۔
 نہ فطری طور پر درست ہے اسے یہودی دماغوں نے گڑھا ہے”

بظاہر ٹمپلرز کا خاتمہ ہوگیا لیکن انہوں نے اس صورتحال سے سبق سیکها اور مستقبل میں اس پر عمل کیا۔ "ایک ہاتھ میں قوت واقتدار خطرناک ہو سکتا ہے چنانچہ اسے تقسیم کر دینا چاہیئے”. اسی فیصلے نےدنیا میں نئے طرز حکمرانی کو متعارف کروایا اوردنیا "جمہوریت” نامی نئے نظام سے واقف ہوئی جو برادری کیلئے شکست کها جانے کے بعد میدان میں آنے اور خم ٹھونک کر آنے کا ذریعہ ثابت ہوا۔ ٹمپلرز زیرزمین چلے گئے اور اب نئے دور کا آغاز ہوا۔ "جمہوریت” کا آغاز۔ جو کہ بادشاہت کا متبادل نظام تها. برادری نے سمجھ لیا تها کہ "خفیہ گرفت” ہی ان جیسی کسی خفیہ نظیم کیلئے موزوں ہے۔ یہ خفیہ گرفت موروثی بادشاہت لیکر تخت پر آنے والے مطلق العنان بادشاہوں کی بہ نسبت عوامی نمائندوں پر آسانی سے قائم کی جا سکتی ہے۔ جب اسمبلیوں میں بهانت بهانت کی بولیاں بولنے والے جمع ہوں گے تو انکی بولی لگانا اور ان کی بولی کو اپنی مرضی کا رخ دینا آسان ہوگا۔ "عوامی نمائندے” اپنے انتخاب کے لیے ہمیشہ سرمائے اور تشہیر کے محتاج رہتے ہیں۔ برادری کا سودی سرمایہ اور دروغ گو میڈیا نہایت آسانی سے ان نمائندوں کی”عوامیت” ختم کرکے انہیں برادری کا تابع بنا سکتا ہے۔ پهر جمہوری فیصلوں میں ابہام زیاده ہوتا ہے. کچھ پتا نہیں کس نے کس رائے کے حق میں خفیہ ووٹ ڈالا۔ ابہام جس قدر زیاده ہوگا "ان” کا تحفظ بھی زیاده ہوگا۔ اگر آپ کو اپنے دشمن کا علم نہیں ہوگا تو کیا کریں گے؟۔۔۔ آپ خود کو الزام دیں گے یا کہیں گے "وقت ہی برا چل رہا ہے” (دجال، عالمی دجالی ریاست۔ ابتدا سے انتہا تک ، ص ۲۳ ، مفتی ابولبابہ شاه منصور)

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!