جمہوریت، شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی کی نظر میں

مسلمانان ِ پاکستان جو اہلسنت و الجماعت سے تعلق رکهتے ہیں وه سب ہمارے بهائی ہیں۔ ان سے ہمارے تعلقات ویسے ہی ہونے چاہئیں جو ساری دنیا کے سنی مسلمانوں کے ساتھ ہیں۔ وہاں ایک یورپین طرز کی جمہوری حکومت ہے۔ جس میں حسب آبادی مسلم اور غیر مسلم سب حصہ دار ہیں۔ جیسا کہ خود مسٹر جناح نے باربار تصریح کی ہے اور اب اسمبلی کے افتتاح میں انہوں نے یہی تقریر کی ہے کہ اس کو بیرونی حکومتیں بھی اسلامی حکومت نہیں تسلیم کرتے۔

موجودہ جمہوریت اور اس کا تعارف زمانہ قدیم میں بادشاہتیں جاری تھیں ولی عہدی کے اصول پر بادشاہت ملتی تھی۔ عرب و عجم میں بادشاہت ھے۔ ان میں ظالم بھی تھے، رحم دل بھی تھے اور انصاف پسند بھی۔ لیکن بادشاہت کی تاریخ میں زیادہ تر مظالم ہی ملتے ہیں۔ ان مظالم سے تنگ آ کر یورپ والوں نے جمہوریت کا طرز حکومت جاری کیا۔ اور اس کا نام عوامی حکومت رکھا۔ اس کے جو طریق کار ہیں انہیں عام طور سے سبھی جانتے ہیں۔ اس جمہوریت کا خلاصہ عوام کو دھوکہ دینا اور کسی ایک پارٹی کے چند افراد کے ملک پر مسلط ہونے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ عنوان یہ ہے کہ اکثریت کی رائے انتخاب میں معتبر ہوگی اور انتخاب بالغ رائے دہندگی کی بنیاد پرہوگا اس میں امید وار کے لیے عالم ہونا، دیندار ہونا بلکہ مسلمان ہونا بھی شرط نہیں، پڑھے لکھے اور بالکل جاہل، جپٹ مرد عورت امید وار بن کر کھڑے ہوجاتے ہیں۔ بعض پارٹی کے نمائندے ہوتے ہیں اور بعض آزاد ہوتے ہیں ان میں بعض وہ بھی ہوتے ہیں جو اسلام کے خلاف بولتے رہتے ہیں۔ اسلام کے نظام حدود و قصاص کو ظالمانہ کہتے ہیں، جس کی وجہ سے حدودکفر میں داخل ہو جاتے ہیں اور انتخاب میں پارٹیوں کے زور پراورسرداروں کے زور پر اور پیسوں کے زور پر ووٹ دینے والے بھی عموماً وہی لوگ ہوتےہیں جو دین اسلام کے تقاضوں کو نہیں جانتے۔ لہٰذا بے پڑھے اور ملحد اور زندیق بھی منتخب ہوکر پارلیمنٹ میں آ جاتے ہیں۔ جس شخص کو زیادہ ووٹ مل گئے وہی ممبر منتخب ہوجاتا ہے اگر کسی سیٹ پر گیارہ آدمی کھڑے ہوں تو ان میں سے اگر دس آدمیوں کو ١٥۔ ١٥ ووٹ ملیں اور ایک شخص کو سولہ ووٹ مل جائیں تو یہ شخص سب کے مقابلہ میں کامیاب مانا جائے گا اور کہا یہ جائے گا کہ اکثریت سے منتخب ہوا حالانکہ اکثریت اس شخص کے مخالف ہے ڈیڑھ سو افراد نے اسے ووٹ نہیں دیئے۔ سولہ آدمیوں نے ووٹ دیئے ہیں۔ ڈیڑھ سو کی رائے کی حیثیت نہیں یہ جمہوریت ہے جس میں ١٥  آدمیوں کی رائے کا خون کیا گیا اور سولہ افراد کی رائے کو مانا گیا۔ پھر پارلیمنٹ میں جس کسی پارٹی کے افراد زیادہ ہوجائیں اسی کی حکومت بن جاتی ہے اور وہ افراد اسی طریقہ پر پارلیمنٹ میں آئے ہیں جو ابھی ذکر ہوا اس طرح سے تھوڑے سے افراد کی پورے ملک پر حکومت ہوجاتی ہے اورپارٹی کے چند افراد اختیار سنبھال لیتے ہیں اور سیاہ و سفید کے مالک ہو جاتے ہیں۔ خود پارٹی کے جو افراد کسی بات سے متفق نہ ہوں انہیں پارلیمنٹ میں پارٹی ہی کے موافق بولنا پڑتا ہے۔ اپنی ذاتی رائے کا خون کر دیتے ہیں۔ یہ جمہوریت اور اکثریت کی حقیقت ہے۔ کہاجاتا ہے کہ اسلام میں جمہوریت ہے اگر اس کا یہ مطلب ہے کہ اسلام میں شوریٰ کی بھی کوئی حیثیت ہے تو یہ بات ٹھیک ہے۔ مگر اس کی حیثیت وہی ہے جو اوپرذکر کر دی گئی ایسی حیثیت جس میں پورے ملک میں انتخاب ہو، بالغ رائے دہی کی بنیادپر ہر کس وناکس ووٹر ہو اور کثرت رائے پر فیصلہ رکھا جائے اسلام میں ایسی جمہوریت نہیں ہے۔ بعض اہل علم بھی دانستہ یا نا دانستہ طور پر اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں وہ اسلام کی بات کو ماننے کے لیے تیار نہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بڑی محنتوں سےجمہوریت کو لائے ہیں۔ اب اس کے خلاف کیسے بولیں۔ اور ان کی لائی ہوئی جمہوریت بالکل جاہلانہ جمہوریت ہوتی ہے، جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ انتخاب میں کوئی بھی کیسا ہی بے دین منتخب ہو جائے جمہوریت جاہلیہ کی وجہ سے اس کے عہدہ کو ماننے پرمجبور ہوتے ہیں کہ اب کیا کریں اب تو منتخب ہو ہی گیا۔ عوام کی رائے کو کیسے ٹھکرائیں۔ قانون کے تابع ہیں اس کے خلاف چلنے بولنے کی کوشش کرنے کی کوئی اجازت نہیں۔ چاروں خلفاء کا انتخاب میں کبھی بھی پورے ملک میں الیکشن نہیں ہوا۔ بلکہ پورےصحابہ (رض) بھی شریک نہیں ہوئے نہ پورا مدینہ شریک ہوا چند افراد نے منتخب کرلیا سب نے مان لیا۔ ممکن ہے یورپ کی جمہوریت جاہلیہ سے مرعوب ہو کر بعض ناواقف یہ کہنے لگیں کہ صحیح طریقہ وہی ہے جو آج کل رواج پائے ہوئے ہے۔ ان حضرات نے انتخاب صحیح نہیں کیا۔ (العیاذ باللہ) اس جاہلانہ سوچ کا جواب دینے کی ضرورت تو نہیں لیکن پھربھی ہم عرض کر دیتے ہیں کہ یہ اعتراض اللہ تعالیٰ کی ذات پر پہنچتا ہے۔ اللہ جل شانہٗ نے سورۃتوبہ کی آیت نمبر ١٠٠ میں مہاجرین اور انصار اور جو خوبی کے ساتھ ان کا اتباع کریں ان کی تعریف فرمائی اور ان کے بارے میں رضی اللّٰہ عنھم و رضواعنہ فرمایا۔ اگرانہیں حضرات نے اسلام کو نہیں سمجھا اور امیر کا انتخاب جس طرح ہونا چاہیے تھا اس طرح نہیں کیا تو ان کے بعد اسلام کو اور اسلام کے تقاضوں کو جاننے والا کون ہے؟۔۔۔پھر نبی اکرم ﷺ نےارشاد فرمایا۔

"علیکم بسنتی و سنۃ الخلفاءالراشدین المھدیین (رواہ ابو داؤد الترمذی)
کہ میرے طریقے کو اور خلفاء راشدین کےطریقے کو اختیار کرنا”

 اگر آنحضرات کا اپنا انتخاب صحیح نہیں اور انہوں نے دوسروں کا انتخاب صحیح نہیں کیا تو وہ خلفاء راشدین ہو ہی نہیں سکتے۔ اگر آج کے جاہلوں کی بات مان لی جائے تو اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ حضرات صحابہ (رض) میں سے کوئی بھی خلیفہ راشد نہیں ہوا۔ (العیاذباللہ) دشمنوں کے طریقہ کار سے مرعوب ہو کر اسلام کی تحریف اور تبدیل کرنے پرآمادہ ہو جانا ایمانی تقاضوں کے سراسر خلاف ہے۔ کافر و ںفاسقوں جیسا لباس پہننا ان کی طرح شکل وصورت بنانا ان کی معاشرت اختیار کرنا سیاست میں ان کے طریق اپنانا، جمہوریت جاہلیہ کا معتقد ہونا کافروں کے وضع کردہ طور طریق اور ان کے بنائے ہوئے قوانین کے مطابق چلنا اور ان کے مطابق حکومت کرنا ان سب میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہے۔ مکتوبات مولاناعاشق الٰہی بلند شہری رحمۃ اللہ علیہ، تفسیرانوارالبیان ، ج 1

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!