جمہوریت، پروفیسرحافظ عبدالله بہاولپوری کی نظر میں

 "جمہوریت اسلامی کیسے ؟۔۔۔” حقیقت یہ ہے کہ جمہوریت نہ کل اسلام ہے، نہ اسلام کا جز۔ بلکہ اسلام کا غیر اور اس کی ضد ہےکیوں کہ اسلام ایک دین ہے اور جمہوریت لادینیت ہے۔ جمہوریت چاہتی ہے کہ اللہ کا کوئی تصور نہ ہو، حاکمیت عوام کی ہو۔ اسلام چاہتا ہے کہ حاکمیت اللہ کی ہو اللہ کےسواکسی کی نہ چلے اگر کوئی کہے کہ جمہوریت کا یہ تصور تو مغرب کا تصور ہے اسلامی جمہوریت کا یہ تصور نہیں تو اس سے کہا جاسکتا ہے کہ جب جمہوریت کوئی اسلامی چیز ہی نہیں تو اس کا کوئی اسلامی تصور کیسے ہوسکتا ہے۔ جمہوریت مغرب کا نظام ہے اور مغرب کا تصور ہی اس کا اصل تصور ہے۔ رہ گیا آج کل کے مسلمانوں کا جمہوریت کو اسلامی کہنا تو ان کے کہنے سے جمہوریت اسلامی نہیں ہوسکتی۔ کفر کو کوئی کتنا بھی اسلامی کہے کفر اسلام نہیں ہوتا، کفر تو کفرہی رہتا ہے، کافر مسلمان ہو جائے تو ہو جائے، کفر کبھی اسلام نہیں ہوتا جمہوریت ایک مستقل نظام ہے، جس کی داغ بیل موجود شکل و صورت میں انقلاب فرانس کے بعد پڑی، یہ مغرب کا نظام ہے اس کو اسلام میں تلاش کرنا یا اسلام میں داخل کرکے اسے اسلامی کہنا اسلام سے بے خبری کی دلیل ہے۔ اسلام ایک جامع اور مکمل نظام حیات ہے اس کے تمام نظام اپنے ہیں۔ اس کو باہر سے کوئی نظام امپورٹ کرنے کی ضرورت نہیں۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!