جمہوریت، علامہ احمد شاکر رحمہ اللہ کی نظر میں

﴿وَ اَمْرُھُمْ شُوْرٰی بَیْنَھُمْ﴾ ’’اور انکا معاملہ باہم مشورے سے طے ہوتا ہے‘‘ اس جیسی آیات کے ذریعے اپنی  گندی جمہوریت کو جائز قرار دینے والوں کی بڑی مؤثر تردید کی ہے چنانچہ آیت ﴿وَشَاوِرْھُمْفِی الْاَمْرِ﴾(آل عمران:159)’’اور معاملے میں ان سےمشورہ لو۔

﴿وََامْرُھُمْ شُوْرٰی بَیْنَھُمْ۔ الشوریٰ:38) ’’اور ان کا معاملہ باہم مشورے سےطے ہوتا ہے‘‘ کی تفسیر کے حاشیے میں فرماتے ہیں۔ ’’عصرحاضر میں دین کو مذاق بنا لینے والے علماء وغیرہ ان دونوں آیات کو اپنی باطل تاویل اورگمراہ کرنے کے لئے مشقِ ستم بناتے ہیں تاکہ فرنگی کے بنائے ہوئے دستوری نظام کو جائز قرار دیں جس کا نام انہوں نے ’’جمہوری نظام‘‘ رکھ کر عوام کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے۔ یہ لوگ ان دونوں آیات کو سرورق اورہیڈنگ بناتے ہیں تا کہ اسلام سے منسوب جماعتوں کو دھوکہ دے سکیں۔ درحقیقت یہ ایسا کلمہ حق ہے جس سے باطل مقصد پورا کیا جارہا ہے۔

 (آگے فرماتے ہیں)نبی ﷺ نےفرمایا کہ ’’عقلمند اور سمجھ دار مجھ سے قریب رہا کریں‘‘۔ ان سے بے دین اور اللہ کےدین سے مصروف جنگ یا اعلانیہ گناہ کرنے والے یا خود کو اللہ کے بنائے ہوئے قوانین کے مخالف قوانین بنانے کا مستحق سمجھنے والےاور اللہ کے دین کو برباد کرنے والے لوگ مراد نہیں جو کفر اور فسق کے مابین ہوں۔ انکا صحیح مقام یہ نہیں کہ مشیر کے مرتبے پر فائز کئے جائیں بلکہ ان کےلئے تختہ دار یا کوڑا ہے‘‘۔ (عمدةالتفسیر:3/64-65)

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!