جمہوریت، شیخ ابو مصعب زرقاوی کی نظر میں

(مترجم شیخ الحدیث مولانا نور الہدی) ہمارےمعاشرے کے بعض لوگ یہ عذر لنگ پیش کرتے ہیں کہ وه "مصلحت دین” کی خاطر جمہوریت میں اترے ہیں اور جمہوریت کو محض اقتدار تک پہنچنے کی سیڑھی کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں، پهر اقتدار میں پہنچ کر شرعی مقاصد کی تکمیل کرنا ان کا مطمع نظر ہے. لیکن شاید یہ لوگ بات بھول گئے ہیں کہ ہمارے دین نے ہمارے لیے صرف اہداف و مقاصد ہی طے نہیں کیے، بلکہ ان تک پہنچنے کا راستہ  بھی ہمیں تفصیل سے بتلایا ہے۔ پس الله کے دین سے متصادم رستہ اختیار کر کے دینی مقاصد حاصل کرنا نہ تو ممکن ہے، نہ ہی جائز۔ افسوس کہ ہمارے یہ بهائی اس اہم نکتے سے نظریں چراتے ہوئے، "مصلحت” کے نام پر درحقیقت دین کے اصولوں پر سودا بازی کرنا میں مصروف ہیں۔ جمہوریت کے بنیادی اصول یہ تو ممکن ہے کہ جمہوریت کی ایک سے زائد تعبریں اور تفسیریں ہوں، لیکن تفسیر یا تعبیر کے ہر اختلاف کے باوجود جمہوریت کی تمام اقسام میں کچھ مشترک بنیادیں ہیں جن پرجمہوریت کی عمارت کھڑی ہوتی ہے یہ سات مشترکہ بنیادیں درج ذیل ہیں۔
1۔لاالہ ٰالا الانسان کاکفریہ کلمہ 2۔عقیدے کی آزادی کا شیطانی اصول 3۔باہمی جھگڑوں میں عوام کوحاکم و فیصل ماننےکا باطل اصول 4۔آزادی اظہارِرائے کا گستاخ اصول 5۔دین ودنیا کی علیحدگی کا شرکیہ اصول 6۔سیاسی جماعتوں‌اورانجمنوں کی تشکیل کی آزادی کا فاسد اصول 7۔کثرت ِرائے کی اتباع کا گمراہ کن اصول جمہوریت ایک مستقل دین۔ الشیخ ابومصعب زرقاوی شہید رحمہ اللہتعالیٰ حطین شمارہ نمبر :8۔صفحہ نمبر:131

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!