جمہوریت، حکیم محمود ظفر کی نظر میں

آج کل پوری دنیا میں جمہوریت کا نعرہ بلند ہو رباہے، اس وجہ‌ سے ہمارے عوام و خواص بلکہ بعض علمائےکرام نے بھی اسلام پر جمہوریت کا ٹھپہ ‌لگا کر اسلامی نظام حکومت کو جمہوری نظام ثابت کرنے کی کوشش کی اور”اسلامی‌جمہوریت” کی اصطلاح وضع کی‌۔ اسلام کا نظام حکومت نہ تو آمرانہ ہے اور نہ ہی جمہوری، نہ اشرافی اور نہ ہی پاپائی بلکہ‌ "شورائی” ہے اور شورائی کا مطلب یہ ہے کہ سر براہ حکومت اہم کام میں ارباب حل و عقد سے مشورہ ضرور طلب کرے۔ لیکن اس مشورہ کے بعد وہ اس بات کا پابند نہیں کہ اکثریت کی رائے پر عمل بھی کرے۔ بلکہ اسے پورا پورا اختیار ہے کہ وہ اکثریت‌ کے فیصلہ کے خلاف بھی فیصلہ دے سکتا ہے۔ خلفائےراشدین اور سید نا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں اسبات پر عمل ہوتا ربا۔ خود سرکار دو عالم ﷺ کا اسوہ بھی اس بات کی تائید کرتا ہے کہ آپ ﷺ نے مشورہ کے بعد موجودہ طرز پر نہ تو ووٹ لیے اور نہ ہی آراء کو شمار کرکے ان کی کثرت پر فیصلہ کیا۔ لیکن اس کے مقابلہ میں جمہوریت اکثریت کی حکومت کا نام ہے۔ اس وجہ سے یہ نظریہ اسلامی نظام کے سراسر منافی ہے۔ بلکہ ہمارا دعویٰ یہ ہے کہ جمہوریت نہ صرف خلاف اسلام نظریہ ‌حکومت ہے بلکہ خلاف عقل اور خلاف فطرت بھی ہے۔ جمہوریت کیوں خلاف اسلام ہے اس کی درج ذیل وجوہات ہیں‌۔

 1۔ جمہو ریت کے خلاف اسلام ہونے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ جمہوریت میں حاکمیت اعلیٰ عوام کی ہوتی ہے۔ جبکہ اسلامی نظام حکومت میں حاکمیت اعلیٰ(Sovereignty) صرف اورصرف اللہ رب‌العزت کی ہوتی ہے۔ گو‌یا جمہوریت میں عوام اللہ عزوجل کے مقابل ٹھہرتے ہیں‌۔ علم یا سیاست میں حاکمیت کا لفظ اقتداراعلیٰ اور اقتدار مطلق کے معنوں میں بولا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے جمہور کے صاحب حاکمیت ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان کا حکم قانون کی حیثیت رکھتا ہے اور انہیں افراد سیاست پر حکم چلانے کے غیر محدود اختیارات حاصل ہو تے ہیں‌۔ افراد ان کی غیر مشروط اطاعت پر مجبور ہوتے ہیں‌۔ افراد کو ان کےمقابلہ میں کوئی حق حاصل نہیں‌۔ جس کو جو بھی حقوق ہیں، انہی کے عطا کردہ ہیں‌۔ وہ ہر حق کو سلب کرنے کا بھی کلی اختیار رکھتا ہے۔ اسی بات کو دوسرے لفظوں میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ قانون صاحب حاکمیت کے ارادے سے وجود میں آتا ہے اور افراد کو اطاعت کا پابند بنا تا ہے۔

 2۔ جمہو ریت سرما یہ دارانہ نظام کی ایک فرع ہے۔ اس میں امیر لوگ’ جاگیر دار اور وڈیرے ہمیشہ برسراقتدار آتے ہیں‌۔

 3۔۔ جمہوریت شرک کی ایک فرع ہے’ اس لیے کہ کسی ملک کے عوام اورجمہور ا س ملک کی آبادی میں سے کچھ لوگوں کو اس یقین اور اعتماد کےساتھ اپنے نمائندے منتخب کرتے ہیں کہ وہ ان کی مرضی‌ او‌رخواہش کے مطابق ان کے لیےقوانین بنائیں گے۔ پھر وہ منتخب نمائندے اپنی رایوں اورذہنوں سے کام لے کر ان عوام اور جمہور کے لیے ایسے قوانین بناتے ہیں جن کی تہہ میں ان کا اپنا مفاد ہو تا ہے۔ منتخب نمائندوں نے چونکہ عوام سے ووٹ لیے ہوتے ہیں اور آئندہ الیکشن کے لیے بھی ووٹوں کے خواہش مند ہوتے ہیں’ لہذا وہ جمہور کی خواہشات کے مطابق بظاہر ایسےقوانین بناتے ہیں کہ وہ خوش رہیں اور اگلے الیکشن میں انہیں پھر سے ووٹ دیں‌۔ چنانچہ اسی کھوٹ اور سستی شہرت کی وجہ ہی سے عوامی نمائندوں نے یورپی جمہور سی ملکوں اور امریکہ میں عوام اور جمہور کی خواہشات اور ان کی مرضی کے پیش نظر شراب نوشی، عریانی، غیر مردوں اور عورتوں میں باہمی رضا مندی سے جنسی اختلاط اور ہم جنسی تک کو قانوناً جائز قرار دے دیا ہے۔ حالانکہ ایسے بد اخلاقی کے قوانین اللہ کی ناراضگی کاباعث ہیں’ لیکن چونکہ اس سے عوام خوش ہیں، اس لیے پارلیمنٹ‌ میں انہی کے عوامی اورجمہوری‌ نمائندگان نے اسے پاس کر کے قانوناً اسے سند جواز عطا کر دی‌۔ اللہ تعالی کے مقابلہ میں جمہورکی خوشنودی کا اس قدر لحاظ رکھنا بلکہ اعتقاد رکھنا ہی شرک ہے۔ شرک اوراسلام دو متضاد چیزیں ہیں‌۔

 4۔ جمہوریت کےاندر دو گروہوں کا ہونا ضروری ہے۔ ایک حزب اقتدار اور دوسرا حزب اختلاف‌۔ حزب اقتدار کا مقصد اپنی مرضی کے مطابق قوانین بنا نا اور عوام پر ٹھونسنا‌ ہو تا ہے جبکہ حزب اختلاف کی غرض و غایت حزب اقتدار کی ہربات کی مخالفت ہوتی ہے۔ اس کے برعکس اسلام کے نظام حکومت میں نہ کوئی حزب‌اختلاف ہے اور نہ کوئی حزب‌اقتدار۔

 5۔ اسلامی نظام حکومت اور جمہوریت میں ایک واضح فرق یہ بھی ہے کہ اسلامی نظام حکومت میں بندوں کو تولا کرتے ہیں جبکہ جمہوری نظام حکومت میں لوگوں کو گنتے ہیں‌۔ یہ نظام فطرت کے خلاف ہے کہ ہر شخص کی رائے کا وزن اور اہمیت ایک جیسی ہو۔ چنانچہ قرآن حکیم میں بھی ہے کہ یعنی علم والےاور جاہل برابر نہیں ہیں‌۔ ایک ماہر فن اور غیر ماہر فن کی رائے میں بہت اختلاف ہوتا ہے ان میں برابری نہیں ہوتی‌۔ اسی شے کو اقبال نے یوں بیان کیا ہے
جمہوریت وہ طرز حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولانہیں کرتے
جمہوریت خلاف اسلام ہے۔ "جمہوریت وه طرزحکومت ہے جس میں لوگوں پر لوگوں کے نفع کیلئے لوگوں کے ذریعے حکومت کی جاتی ہے”، تو یہ بھی بہت بڑا جھوٹ ہے. کیونکہ جہاں تک لوگوں کی حکومت کا تعلق ہے تواس کی حقیقت یہ ہے کہ سب کے سب عوام تو حکومت نہیں کرتے، کیونکہ دستور سازی اورقوانین اور تشریعات کو محدود اقلیت وضع کیا کرتی ہے اور یہ اقلیت بہت ہی محدود سی نسبت کی نمائندگی کیا کرتی ہے اور جہاں تک حاکم کا خود عوام ہونے کا تعلق ہے یعنی عوام خود اپنے حکام کو منتخب کیا کرتے ہیں تو یہ دعوی بھی بہت بڑے مغالطے پر مبنی ہے کیونکہ اصلا جو حکمرانی کیا کرتا ہے تو وه ایک شخص یا ایک ہئیت تنفیذ یہ ہوا کرتی ہے، جو بعض حالات میں تو بلکل ہی ایک چھوٹا سا گروه ہوتاہے، جو ان احکام کی تنفیذ کرتا ہے جو اس کے لیے طے کر دیے گئے ہوں. پهر جن لوگوں نے ان کا اور ان قوانین کے بنانے والوں کا انتخاب کیا ہوتاہے، وه کُل معاشرے کی ایک چھوٹی سی تعداد ہوا کرتی ہے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!