جمہوریت، مولانا عبد الرحمن کیلانی کی نظر میں

مغربی جمہوریت میں پانچ ارکان ایسے ہیں جو شرعاً ناجائز ہیں۔ خواتین سمیت تمام بالغوں کا حق رائے دہی (بالفاظ دیگر سیاسی اور جنسی مساوات)، ہر ایک کے ووٹ کی یکساں قیمت، درخواست برائے نمائندگی اور اس کے جملہ لوازمات، سیاسی پارٹیوں کا وجود، کثرتِ رائے سے فیصلہ۔
ان ارکانِ خمسہ میں سےایک رکن بھی حذف کردیا جائے تو جمہوریت کی گاڑی ایک قدم بھی آگےنہیں چل سکتی ہے۔
جبکہ اسلامی نظام خلافت میں ان ارکان میں سے کسی ’’ایک‘‘ کو بھی گوارا نہیں کیا جاسکتا ہے۔ لہٰذا یہ دونوں نظام ایک دوسرے کی ضد ہیں اور ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔ یعنی نہ تو جمہوریت کو ’’مشرف بہ اسلام‘‘ کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی نظام خلافت میں جمہوریت کے مروجہ اصول شامل کرکے اس کے سادہ ،فطری اور آسان طریق کار کو خواہ مخواہ ’’مکدر اور مبہم‘‘ بنایا جاسکتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ جمہوریت ایک لادینی نظام ہے اور اس کے علمبردار مذہب سے بیزار تھے۔ جبکہ خلافت کی بنیاد ہی اللہ ،اس کے رسولﷺ اور آخرت کے تصور پر ہے اور اس کے اپنانے والے انتہائی متقی اور بلند اخلاق تھے۔ ہمارے خیال میں جیسے دن اور رات یا اندھیرے اور روشنی میں سمجھوتہ ناممکن ہے، بالکل ایسے ہی دین اور لادینی یا خلافت یا جمہوریت میں بھی مفاہمت کی بات ناممکن ہے۔ لہٰذا اگرجمہوریت (یا اس کے اصولوں) کو بہرحال اختیار کرنا ہے تو اسے توحید و رسالت سے انکار کے بعد ہی اپنایا جاسکتا ہے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!