جمہوریت، ابو محمد عاصم المقدسی کی نظر میں

اپنی مشہور معروف کتاب’’الدیمقراطیہ دین‘‘ میں فرماتے ہیں ’’جمہوریت لادینیت یاسیکولرازم کی ’’ناجائز اورغیرقانونی باندی‘‘ہے اور سیکولر ازم ایسا ’’کفری دین‘‘ ہے جو زندگی اور ریاست و حکومت سےدین کو نکال باہر کرتا ہے۔ جمہوریت دراصل عوام یا طاغوت کے فیصلے کو کہتے ہیں اوریہ کسی بھی حال میں اللہ تعالیٰ کا فیصلہ نہیں ہوسکتا۔ جمہوریت میں اللہ کے قانونِ محکم کا بالکل اعتبار نہیں، سوائے یہ کہ اللہ کا قانون پہلے دستور کے مطابق ہوجائے یا پھر عوامی خواہشات کے اور ان سب سے پہلے وہ ’’طاغوت‘‘ یا ’’سربراہ طبقے‘‘ کی ترجیحات واغراض کے عین مطابق ہوجائے۔ باالفاظِ دیگر یہ جمہوری آزادی ہی تو ہے جو اللہ کے دین اوراس کے قانون اور اس کے حدود کی تمام حدبندیوں سے مکمل آزاد کردیتی ہے۔ کیونکہ زمینی دستور کا قانون اور وضعی قانون کی حدودیں، اس گندی جمہوریت میں مکمل محفوظ ومامون بھی ہیں اور نافذالعمل بھی ہیں بلکہ جو ان کی خلاف ورزی یا مخالفت کرے، اس کے لئے سزا ضروری ہے۔ مزید فرماتے ہیں دین جمہوریت اللہ کے دین اور ملت توحید سے متضاد ایک دین وملت ہے اور اس کی پارلیمنٹ اورا سمبلیاں شرک کے قلعے اور بت کدے ہیں جن سے توحید کے اثبات کی خاطر اجتناب کرنا واجب ہے۔ توحید جو بندوں کے ذمے اللہ کا حق ہے بلکہ ان قلعوں اور بت کدوں کو مسمار اور نیست نابود کرنے کے لیے ہر سعی کرنی چاہیئے اور ان کے حامیوں سے بغض وعداوت رکھنا چاہئیے اوران کے خلاف علم جہاد بلند کرنا چاہیے اور یہ کوئی اجتہادی مسئلہ نہیں جیسا کہ بعض علماء سو ایسا باور کراتے ہیں بلکہ واضح شرک اور کفر بواح ہے جس سے بارہا اللہ تعالیٰ نے اپنے محکم کلام میں ڈرایا ہے اور نبی ﷺ اپنی پوری زندگی اس کے خلاف جنگ کرتے رہے ۔ جمہورہت نیا کفری دین ہے اور قانون سازی جمہوری رب اور ان کے پیروکاران کے پجاری ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ سمجھ لیں کہ لفظ ڈیموکریٹ ( ہمارے معاشرے میں ڈیمو کریسی عمل کے لیے جمہوریت کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے جو کہ ڈیمو کریسی کا اصطلاحی شرعی غلط ترجمہ ہے اورا صطلاح لغت کے اعتبار سے ڈیموکریسی کا اردو ترجمہ عوامیت زیادہ صحیح ہوگا نیز اگر اس کا صحیح ترجمہ جمہوریت بھی فرض کرلیں تب بھی جمہوریت حجت نہیں۔ یونانی ہے نہ کہ عربی اور یہ دو لفظوں ڈیمو یعنی عوام اور کریٹ یعنی حکومت یا قانون سازی سے مل کر بنا ہے یعنی لفظ ڈیموکریٹ کا مطلب ہوا کہ عوامی حکومت یا عوامی قانون سازی ۔ اوراہل جمہوریت کے ہاں جمہوریت کے یہی بڑی خاصیات ہیں اس لئے ہروقت اس کی مداح سرائی کرتے ہیں جبکہ اے میرے موحد بھائی اس وقت کفر وشرک اور باطلکی یہی سب سے بڑی خصوصیات ہیں جو دین اسلام اور ملت توحید سے مکمل طور پر متضاد اور معارض ہیں کیونکہ آپ جان چکے ہیں کہ اصل الاصول اورا سلام کا سب سے مضبوط کڑا جس کی خاطر بنی نوع آدم کو پیدا کیا گیا اور کتابوں اور رسالوں کا سلسلہ شروع کیا گیا وہ اللہ تعالیٰ کی توحید عبادت اور اس کے سوا ہر ایک کی عبادت سے اجتناب ہے جبکہ قانون سازی میں کسی کی اتباع کرنا عبادت ہے، جو کہ اکیلے اللہ کا حق ہے اور یہ غیراللہ کو دینے والا مشرک ہے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!