جمہوریت، مولانا محمود الحسن گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کی نظر میں

"اسلام میں اس جمہوریت کا کہیں وجود نہیں (لہذا یہ نظامِ کفرہے) اور نہ ہی کوئی سلیم العقل آدمی اس کے اندر خیر تصور کر سکتا ہے۔”حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے جمہوریت کی تردید فرمائی ہے۔ وہاں قوانین و احکام کا دارومدار دلائل پر نہیں بلکہ اکثریت پر ہے، یعنی کثرتِ رائے سے فیصلہ ہوتا ہے۔ پس اگر کثرتِ رائے قرآن و حدیث کے خلاف ہو تو اسی پر فیصلہ ہوگا۔ قرآنِ کریم نے اکثریت کی اطاعت کو موجبِ ضلالت فرمایا ہے۔ "فتاویٰ محمودیہ”، جلد 20، صفحہ 415

﴿وَإِنْتُطِعْأَكْثَرَمَنْ فِي الْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّه ِالآية﴾
اہلِ علم، اہلِ دیانت و اہلِ فہم کم ہی ہوا کرتے ہیں۔

خلفائے اربعہ رضی اللہ عنہم، حضور اکرمﷺ کے نقشِ قدم پر چلنے والے تھے، انہوں نے اس کے خلاف کوئی دوسری راہ اختیار نہیں کی ہے۔ فتاوئ محمودیہ؛ جلد چہارم؛ کتاب السیاسۃ والھجرۃ؛ باب جمہوری و سیاسی تنظیموں کا بیان۔

 آجکل جمہوریت کا مفہوم یہ ہے کہ ہر بالغ مرد، عورت، خوانده ناخوانده، عاقل، سفیہ کو ووٹ دینے کا حق ہے اور ان کے ووٹوں کی اکثریت سے سربراه حکمران تجویز کیا جاتا ہے. اسلام میں اس جمہوریت کا کہیں وجود نہیں ، نہ کوئی سلیم العقل اس کے اندر خیرتصور کرتا ہے، ظاہر ہے کہ اکثریت نادانوں کی اور جاہلوں کی ہے وه لوگ ایسے شخص کوہی ووٹ دیں گے جس کے ذریعہ ان کی خواہشات پوری ہونے کی توقع ہو اور یہ یقین ہے کہ ان کی خواہشات میں شر کا غلبہ ہے تو شر پھیلانے والے سربراه کا انتخاب کون سی عقل کی بات ہے؟۔۔۔ اس ملک کی سیاه بختی کا کیا ٹهکانہ، جہاں کی سربراہی  کامعیار اہلیت و دلائل سے ہٹ کر عوام  کی کثرت پر رکھ دیا جائے۔ (فتاویٰ محمودیہ ، جلد ۱)

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!